ان کے پہلو میں جگہ ہو تو وہیں بیٹھیں گے
ورنہ، ہم بزم میں اب اور نہیں بیٹھیں گے
آپ کے سامنے جلتا ہے بھلا کس کا چراغ
آپ جائیں گے تو یہ سارے حسیں بیٹھیں گے
رقصِ وحشت میں یہ صحرا ہے مقابل اپنے
گرد بیٹھے گی تو پھر ہم بھی کہیں بیٹھیں گے
خود بھی کچھ یاد حفاظت کی دعائیں کر لے
عمر بھر ہم تِرے پہلو میں نہیں بیٹھیں گے
اسد رحمان
No comments:
Post a Comment