کیوں نہ بے فکر ہو کے سویا جائے
اب بچا کیا ہے؟ جس کو کھویا جائے
کسی تنکے کا بھی سہارا نہیں
ساتھ لے کر کسے ڈبویا جائے
اہک فہرستِ رفتگاں ہے میاں
رویا جائے تو کس کو رویا جائے
میں تو خود سے فرار چاہتا ہوں
خود میں تجھ کو کہاں سمویا جائے
کوئی تو نام ہو تعلق کا
کس حوالے سے بوجھ ڈھویا جائے
ہم ضروری نہیں سمجھتے فراغ
عشق تسبیح میں پرویا جائے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment