Wednesday, 19 January 2022

ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں

 ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں

تمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیں

ازل سے داخل فرد شمار ہم بھی ہیں

تمہارے چاہنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

ہمیشہ ہم سے کدورت رہی حسینوں کو

نہ دل سے نکلے کبھی وہ غبار ہم بھی ہیں

مسافروں کی تواضع سے نام ہوتا ہے

کرم کرو کہ غریب الدیار ہم بھی ہیں

شراب پیتے ہیں تو جاگتے ہیں ساری رات

مدام عابد شب زندہ دار ہم بھی ہیں

ہزار بار حسینوں سے ہم نے نوک کی لی

گلوں کی آنکھ میں کھٹکے وہ خار ہم بھی ہیں

عجیب رتبہ عنایت کیا ہے قنبر کو

غلام یا شہ دل دل سوار ہم بھی ہیں

جنوں کے ہاتھ سے ہے ان دنوں گریباں تنگ

قبا پکارتی ہے تار تار ہم بھی ہیں

بڑے ہی چالیئے ہیں چال چلتے ہیں ہر دم

وہ چوکتے نہیں پر ہوشیار ہم بھی ہیں

رقیب کو بھی ہے بار ان کی بزم میں آغا

شریک صحبت بوس و کنار ہم بھی ہیں


آغا اکبرآبادی

No comments:

Post a Comment