Wednesday, 19 January 2022

رشتہ بدن کا ختم ہوا اپنی جان سے

 رشتہ بدن کا ختم ہوا اپنی جان سے

ملتی ہے شکل شہر کی میرے مکان سے

خواہش کو اس کی جیسے کوئی دخل ہی نہ تھا

یوں اس نے مجھ کو پھینک دیا آسمان سے

کیسی لگی ہے آگ کہ بجھتی نہیں کبھی

اک سلسلہ ہے کب سے دھویں کا چٹان سے

منہ سے جو بات نکلی وہ پہنچی نگر نگر

لوٹا نہ پھر وہ تیر جو نکلا کمان سے

پتھر کے نیچے دفن ہے ہر حرف گفتنی

اب صرف مصلحت کا ہے رشتہ زبان سے

تیرو لہو میں اپنے تو ممکن ہے خود کو پاؤ

دھلتا ہے صرف جسم ہی گنگا نہان سے


نصر غزالی

No comments:

Post a Comment