گماں یقیں کو، یقیں کو گماں نہیں کہتے
ہم اہلِ دل ہیں، کوئی داستاں نہیں کہتے
یہ کارِ خیر سمجھ کر دِیے جلاتے ہیں
سخن طراز اسے کارِ زیاں نہیں کہتے
جو ظلمتوں میں سرِ بام جگمگائیں، انہیں
نہ جانے کیسے ہیں بیٹے کہ ماں کے آنچل کو
جو اوڑھتے ہیں، مگر سائباں نہیں کہتے
مکاں وہی ہے مکینوں سے جس میں ہلچل ہو
اسی لیے تو لحد کو مکاں نہیں کہتے
یہ قید و بند کی جا ہے اسے کبھی صیاد
تَرے اسیرِ قفس،، آشیاں نہیں کہتے
ہمارے بعد کے راہیؔ بھی ہوں سوئے منزل
ضرور پہنچے یہی کارواں نہیں کہتے
اسلم راہی
No comments:
Post a Comment