Wednesday, 21 December 2016

عمر بھر میں نے یہی ایک ریاضت کی ہے

عمر بھر میں نے یہی ایک ریاضت کی ہے
عشق پھولوں سے تو کانٹوں سے محبت کی ہے
میں نے تو صرف پروۓ ہیں ستارے موتی
جھیل میں جو بھی کرن ہے تِری صورت کی ہے
پانچ دریاؤں کے چھڑکاؤ سے بجھ سکتی نہیں
دل کے جنگل میں لگی آگ جو شدت کی ہے
کوئی فرعون ہو، شداد ہو، یا ہو نمرود
ہم نے ان سارے خداؤں سے بغاوت کی ہے
اب وہ آنکھیں تو نہیں دل کے پھپھولے تو ہیں
روشنی کر کے رہوں گا یہی نیت کی ہے
روتے روتے مِری آنکھوں سے چھلک آئی ہے
تم نے بے وقت، سہی اچھی شرارت کی ہے
یہ غزل، دل سے پسند آئی ہے اسلم راہیؔ
اس نے سوئے ہوئے لفظوں کی صراحت کی ہے

اسلم راہی

No comments:

Post a Comment