عمر بھر میں نے یہی ایک ریاضت کی ہے
عشق پھولوں سے تو کانٹوں سے محبت کی ہے
میں نے تو صرف پروۓ ہیں ستارے موتی
جھیل میں جو بھی کرن ہے تِری صورت کی ہے
پانچ دریاؤں کے چھڑکاؤ سے بجھ سکتی نہیں
کوئی فرعون ہو، شداد ہو، یا ہو نمرود
ہم نے ان سارے خداؤں سے بغاوت کی ہے
اب وہ آنکھیں تو نہیں دل کے پھپھولے تو ہیں
روشنی کر کے رہوں گا یہی نیت کی ہے
روتے روتے مِری آنکھوں سے چھلک آئی ہے
تم نے بے وقت، سہی اچھی شرارت کی ہے
یہ غزل، دل سے پسند آئی ہے اسلم راہیؔ
اس نے سوئے ہوئے لفظوں کی صراحت کی ہے
اسلم راہی
No comments:
Post a Comment