دن غضب ہے، رات کا ہم کیا کریں
سختئ حالات کا ہم کیا کریں
اس اذیت سے گزرنا تھا ہمیں
ہونے والی بات کا ہم کیا کریں
اتنے خائف ہیں کہ گھر میں چھپ گئے
تُو بتا آشوبِ غم!۔ تُو ہی بتا
ہجر کے لمحات کا ہم کیا کریں
لے گئے دل، جاں بھی لیتے جائیے
آپ کی سوغات کا ہم کیا کریں
روک لیتے ہیں یہ آنسو دو گھڑی
اور اس برسات کا ہم کیا کریں
کی ہے راہیؔ کوششِ ترکِ سخن
اور اس کم ذات کا ہم کیا کریں
اسلم راہی
No comments:
Post a Comment