گاؤں کی سب سبز بیلیں سوکھ گئیں
میرے ہجرت زدہ! تیرے شہر جانے کے بعد
دن کو یہ جھوٹی ہنسی میں خلل نہیں ڈالتی
وحشت ٹھکانے لگتی ہے شام کے بعد
آبِ حیات ہے ہنسی اُس کی، اور وہ
مجھ کو یہ پلائے گی زہر پلانے کے بعد
کسی کی تجھ کو پرواہ نہ رہی کبھی
کوئی چوکھٹ سے لگ کے بیٹھا رہا تِرے بعد
خیال تیرے نے مجھ کو یار تھکا رکھا ہے
تُو اب ذہن سے بھی نکل جا زندگی کے بعد
بہت بولنے والوں کی خامشی تو سُننے آ کبھی
اک طویل گفتگو رہی چُپ سے تیرے بعد
برسوں کی تھکاوٹ لیے سویا تھا کوئی
پھر دیر تک جاگا اک خواب کے بعد
فاکہہ تبسم
No comments:
Post a Comment