Friday, 7 May 2021

وہ آج تک مرے معیارتک نہیں پہنچا

 وہ آج تک مِرے معیارتک نہیں پہنچا

جو شخص ریت کی دیوار تک نہیں پہنچا

ہیں کتنے لوگ یہاں ایڑیاں اُٹھائے ہوئے

کسی کا سر ابھی دستار تک نہیں پہنچا

نجانے آنکھ سے کیسے نکل گیا آنسو

یہ اور بات کہ رُخسار تک نہیں پہنچا

دماغ میں کہیں موجود ہے جو مُدت سے

خیال وہ ابھی اظہار تک نہیں پہنچا

ابھی تو راہ میں حائل ہیں دھوپ کے پہرے

گلی کا سایہ بھی دیوار تک نہیں پہنچا

میں سینہ تان کے کب سے کھڑا ہوں زِنداں میں

جھکا کے سر کسی دربار تک نہیں پہبچا

کمال حاشیہ بردار ہو گئے ہیں سب

مِرے سوا کوئی انکار تک نہیں پہنچا


اشرف کمال

No comments:

Post a Comment