Saturday, 11 September 2021

دل نشیں ہے مہ جبیں ہے شوخ ہے نوخیز ہے

 دلنشیں ہے، مہ جبیں ہے، شوخ ہے، نوخیز ہے

ایک مشکل ہے، محبت سے اسے پرہیز ہے

پیار کی مُخبر نگاہوں کو ہے اس کی آرزو

وہ بدن ایک انتہائی خفیہ دستاویز ہے

دیکھ کر اس کو ہماری آنکھ میٹھی ہو گئی

سر سے پاؤں تک وہ لڑکی شہد سے لبریز ہے

ایک تو وہ بولتی ہے شان سے اردو زباں

اس پہ طُرہ اس کا لہجہ بھی ادب آمیز ہے

عرضِ حالِ دل پہ اس کے طیش کا عالم نہ پوچھ

ایک لمحے یوں لگا مجھ کو یہی چنگیز ہے

پھول کو تحفے میں کوئی پھول دیتا ہے بھلا

اس کو دل کی کیا ضرورت ہے جو دلآویز ہے


قمر آسی

No comments:

Post a Comment