وہ سائیکالوجی کی طالبہ ہے
دلوں میں اٹھتے یہ ہُوک سارے وہ کیسے جانے
اس کے ہاں سب جو بھی ہے بس دماغ ہی ہے
وہ محبت کے سب اصولوں سے غیر واقف
وہ سارا دن بس دماغ پڑھنے میں سر کھپائے
سائنس والا یہ دور ہے جو یہاں ضرورت بھی یہی ہے
دلوں کے معاملاتوں کا وہ زمانہ گزر چکا ہے
سسی صحرا میں جل چکی ہے
سوہنی دریا کے بہتے پانی میں گھل چکی ہے
تیشہ فرہاد کے ہی سینے میں کھو چکا ہے
قیس جنگل میں ہی ابدی نیند سو چکا ہے
یہ دور سائنس کا دور پیارے
یہاں محبت دماغ کی ہے
وہ سائیکالوجی کی طالبہ ہے
عاصم رشید
No comments:
Post a Comment