Saturday, 4 March 2023

رات بھر ان سے پہلو بچاتے رہے

 رات بھر ان سے پہلو بچاتے رہے

چڑھا دن تو سر کو کھجاتے رہے

ریل تھی نہ ہی پٹڑی نہ کوئی سڑک

بے خیالی میں ہاتھ ہم ہلاتے رہے

ہم کلیجے کو تھامے بلکتے رہے

وہ تیروں کو اپنے چلاتے رہے

جونہی سویا جھٹک کر جگایا اسے

جس کو پہروں تھپک کر سلاتے رہے

ہم نے توڑا کسی دل کو ہاتھوں سے اپنے

زخمی پوروں سے کرچیں اٹھاتے رہے


عاصم رشید

No comments:

Post a Comment