رات بھر ان سے پہلو بچاتے رہے
چڑھا دن تو سر کو کھجاتے رہے
ریل تھی نہ ہی پٹڑی نہ کوئی سڑک
بے خیالی میں ہاتھ ہم ہلاتے رہے
ہم کلیجے کو تھامے بلکتے رہے
وہ تیروں کو اپنے چلاتے رہے
جونہی سویا جھٹک کر جگایا اسے
جس کو پہروں تھپک کر سلاتے رہے
ہم نے توڑا کسی دل کو ہاتھوں سے اپنے
زخمی پوروں سے کرچیں اٹھاتے رہے
عاصم رشید
No comments:
Post a Comment