Saturday, 4 March 2023

گمان نہ تپاک سے یوں ملا کرو

 گمان


نہ تپاک سے یوں ملا کرو

ہے بڑی عجیب یہ زندگی

بڑے خوش گمان سے لوگ ہیں

جو ملو گے سب سے تپاک سے

سو ہمیشہ پاؤ گے درد بس

کبھی دل کا روگ لگاؤ گے

کبھی جان سے ہی جاؤ گے

ہے گمان اک لمحے کا بس

کہ یہ لوگ ہم کو ہیں چاہتیں

نہیں سوچ میں کبھی ہوتا بس

یہ عجب مزاج کے لوگ ہیں

کبھی چاہتیں کبھی الفتیں

کبھی بے شمار عنایتیں

کبھی خوش گمان سی گفتگو

کبھی بے وجہ سی عنایتیں

کبھی ساتھ چلنے کا عہد بھی

کبھی بے وجہ سی شکایتیں

کبھی یہ یقین کہ ہیں ساتھ وہ

کبھی بے وجہ سی ہیں دوریاں

کبھی بس ہیں لگتے قریب سے

کبھی ہیں بہت سی یہ دوریاں

کبھی صرف ہوتے ہیں یہ یقین

کبھی ہوتے بس ہیں یہ خواب سے

جو سمجھ سکو تو ہیں یہ گمان

یہ ہیں زندگی کے ترجمان

انہیں جان کر انہیں مان کر

سو رہو گے ہمیشہ عذاب میں

سو ملو گے سب سے تپاک سے

سو ہمیشہ پاؤ گے درد بس

کبھی روگ دل کا لگاؤ گے

کبھی جان سے ہی جاؤ گے

نہ تپاک سے یوں ملا کرو

ہے بڑی عجیب یہ زندگی


تسنیم مرزا

No comments:

Post a Comment