گمان
نہ تپاک سے یوں ملا کرو
ہے بڑی عجیب یہ زندگی
بڑے خوش گمان سے لوگ ہیں
جو ملو گے سب سے تپاک سے
سو ہمیشہ پاؤ گے درد بس
کبھی دل کا روگ لگاؤ گے
کبھی جان سے ہی جاؤ گے
ہے گمان اک لمحے کا بس
کہ یہ لوگ ہم کو ہیں چاہتیں
نہیں سوچ میں کبھی ہوتا بس
یہ عجب مزاج کے لوگ ہیں
کبھی چاہتیں کبھی الفتیں
کبھی بے شمار عنایتیں
کبھی خوش گمان سی گفتگو
کبھی بے وجہ سی عنایتیں
کبھی ساتھ چلنے کا عہد بھی
کبھی بے وجہ سی شکایتیں
کبھی یہ یقین کہ ہیں ساتھ وہ
کبھی بے وجہ سی ہیں دوریاں
کبھی بس ہیں لگتے قریب سے
کبھی ہیں بہت سی یہ دوریاں
کبھی صرف ہوتے ہیں یہ یقین
کبھی ہوتے بس ہیں یہ خواب سے
جو سمجھ سکو تو ہیں یہ گمان
یہ ہیں زندگی کے ترجمان
انہیں جان کر انہیں مان کر
سو رہو گے ہمیشہ عذاب میں
سو ملو گے سب سے تپاک سے
سو ہمیشہ پاؤ گے درد بس
کبھی روگ دل کا لگاؤ گے
کبھی جان سے ہی جاؤ گے
نہ تپاک سے یوں ملا کرو
ہے بڑی عجیب یہ زندگی
تسنیم مرزا
No comments:
Post a Comment