وجود محبت
ہم ایک تھے
مقابلے پہ کُل جہان تھا
ذرا بھی ہم نہیں ڈرے
بہت لڑے، بڑے جتن کئے
مگر نصیب سے شکست کھا گئے
کہ وہ خدا بھی چاہتا نہیں تھا ہیر رانجھنے سے مِل سکے
سو پھر جدائی کے کئی سبب بنا دئیے گئے
وہاں پہ وہ یہاں پہ میں تڑپتے ہی رہے
اٹھا اٹھا کے ہاتھ سر دھرے سجود میں
بلک بلک کے مانگتے رہے
مگر خدا نے اور کسی خدا پرست نے بھی بات نہ سنی
ساتھ نہ دیا
بدن تو اِک طرف ہماری روح نفرتوں سے کیل دی گئی
صلیب پر محبتوں کے جسم ٹانگ کر ہنسی بکھیر دی گئی
یہ بے مروتی بھرے تمام لہجے صنفِ نازنیں کو توڑ ہی گئے
جِسے عبور تھا محبتوں کی شان میں قصیدے لکھنے کا
جِسے یہ شرف تھا کہ اپنی ذات میں وہ خود ہی عشق تھی
وہ پِھر گئی
جہانِ نامراد کی تمام الفتوں
محبتوں کے ہر وجود کو ہی رد دیا
جو ہونا چاہیے نہیں تھا وہ ہی ہو گیا
ہم ایک جان تھے مگر نہیں رہے
شدید کرب سے اٹے بدن لیے
محبتوں کے ہم امیں
جدائیوں کے راستوں پہ چل دئیے
خُدائے لم یزل
ذرا سا رحم کر
جو دل میں بھر محبتیں تو پھر نصیب میں بھی لکھ
اذیت و سزا کا کوئی اور راستہ نکال
محبتوں کو چھوڑ دے
شوزب حکیم
No comments:
Post a Comment