Saturday, 4 March 2023

نظر نظر سے قدم سے قدم ملا کے چلے

 نظر، نظر سے قدم سے قدم ملا کے چلے

ہے کوئی ہم سا جو زخموں پہ مسکرا کے چلے

زمین تنگ ہوئی، اور زبان کاٹی گئی

لہو سے مقتل و زِندان ہم سجا کے چلے

مقابلہ جو ہوا موت کا حیات سے پھر

اجل کے رقص میں ہم بھی قدم اٹھا کے چلے

تمہاری گولی سے چھلنی ہوئے ہیں سینے کئی

ہمارے سنگ سے تم یونہی تلملا کے چلے

کٹا کے غنچوں کے سر وہ بقائے اہلِ چمن

شجر، سنوار کے شاخوں کو گنگنا کے چلے

ہمارے زخم سلامت رہیں سدا یونہی

قتیل شہرِ خموشاں میں جگمگا کے چلے

گواہی دے گی یہ مٹی ہماری نسلوں کو

ہم ان کے فردا کی خاطر ہیں سر کٹا کے چلے


ریاض شاہد

No comments:

Post a Comment