ایک ہی شخص پر قناعت کی
یار حد ہو گئی شرافت کی
بلبلوں نے سجائی شامِ غزل
اور اک پیڑ نے صدارت کی
جل اٹھے جب دِیے،ہواؤں نے
اک محبت بھری شرارت کی
میں نے ایجاد کر لیا خود کو
جب لگی ہتھکڑی ضرورت کی
اپنا لاشہ اٹھا کے چلتا ہوں
یہ نشانی نہیں قیامت کی؟
میرے متروک نے کہا مجھ سے
کھا قسم دوسری محبت کی
احمد زوہیب
No comments:
Post a Comment