Sunday, 9 January 2022

ایک ہی شخص پر قناعت کی

 ایک ہی شخص پر قناعت کی

یار حد ہو گئی شرافت کی

بلبلوں نے سجائی شامِ غزل

اور اک پیڑ نے صدارت کی

جل اٹھے جب دِیے،ہواؤں نے

اک محبت بھری شرارت کی

میں نے ایجاد کر لیا خود کو

جب لگی ہتھکڑی ضرورت کی

اپنا لاشہ اٹھا کے چلتا ہوں

یہ نشانی نہیں قیامت کی؟

میرے متروک نے کہا مجھ سے

کھا قسم دوسری محبت کی


احمد زوہیب

No comments:

Post a Comment