Sunday, 6 September 2020

نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے

 نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے

بیاباں میں سمندر بس گیا ہے

چمک دیوار و در کی کہہ رہی ہے

کوئی اس گھر کے اندر بس گیا ہے

ٹھکانہ مل گیا ہے اس کو آخر

وہ میرے دل کے اندر بس گیا ہے

مہک اٹھا تصور کا جہاں بھی 

کوئی خوشبو کا پیکر بس گیا ہے 

جو تنہائی کے صحرا کا مکیں تھا 

زماں آج اس کا بھی گھر بس گیا ہے 


زمان کنجاہی

No comments:

Post a Comment