نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے
بیاباں میں سمندر بس گیا ہے
چمک دیوار و در کی کہہ رہی ہے
کوئی اس گھر کے اندر بس گیا ہے
ٹھکانہ مل گیا ہے اس کو آخر
وہ میرے دل کے اندر بس گیا ہے
مہک اٹھا تصور کا جہاں بھی
کوئی خوشبو کا پیکر بس گیا ہے
جو تنہائی کے صحرا کا مکیں تھا
زماں آج اس کا بھی گھر بس گیا ہے
زمان کنجاہی
No comments:
Post a Comment