بہت کٹھن تھا مگر فیصلہ ضروری تھا
سو طے ہوا کہ اسے چھوڑنا ضروری تھا
عداوتوں میں بھی ابلاغ کی ضرورت تھی
کہ گفتگو کے لیے رابطہ ضروری تھا
پتا چلا کہ وہی لوگ ہیں خسارے میں
جنہیں یقیں کے لیے معجزہ ضروری تھا
شکست کھا گئے جو جسم تھے قوی ہیکل
مزاحمت کے لیے حوصلہ ضروری تھا
اسی سبب سے تھا بدنام شہر میں عاطر
رکا نہیں وہ جہاں بولنا ضروری تھا
یاسین عاطر
No comments:
Post a Comment