Wednesday, 13 October 2021

شجر وہ اس لیے بھایا نہیں ہے

 شجر وہ اس لیے بھایا نہیں ہے

کہ اس کا پھل تو ہے سایہ نہیں ہے

بینائی آنکھ کی جانے لگی ہے

اسے عرصہ ہوا دیکھا نہیں ہے

ہر اک کو کیسے رکھ لوں اس میں پیارے

یہ میرا دل ہے کوئی بستہ نہیں ہے

ہمارے پاس کیسے آئے گی وہ

ہماری جیب میں خرچہ نہیں ہے

مجھے بھی دکھ ہے لاحق آپ والا

مجھے بھی دنیا نے سمجھا نہیں ہے

نہیں ہو پائے گا اظہار مجھ سے

سمجھ لے خود ہی تو بچہ نہیں ہے

حیات اس کو بھی جانے کی پڑی ہے

اور اپنا موڈ بھی اچھا نہیں ہے


وقار حیات

No comments:

Post a Comment