شجر وہ اس لیے بھایا نہیں ہے
کہ اس کا پھل تو ہے سایہ نہیں ہے
بینائی آنکھ کی جانے لگی ہے
اسے عرصہ ہوا دیکھا نہیں ہے
ہر اک کو کیسے رکھ لوں اس میں پیارے
یہ میرا دل ہے کوئی بستہ نہیں ہے
ہمارے پاس کیسے آئے گی وہ
ہماری جیب میں خرچہ نہیں ہے
مجھے بھی دکھ ہے لاحق آپ والا
مجھے بھی دنیا نے سمجھا نہیں ہے
نہیں ہو پائے گا اظہار مجھ سے
سمجھ لے خود ہی تو بچہ نہیں ہے
حیات اس کو بھی جانے کی پڑی ہے
اور اپنا موڈ بھی اچھا نہیں ہے
وقار حیات
No comments:
Post a Comment