Wednesday, 9 February 2022

وہ تہی دست بھی کیا خوب کہانی گر تھا

 وہ تہی دست بھی کیا خوب کہانی گر تھا

باتوں باتوں میں مجھے چاند بھی لا دیتا تھا

ہنساتا تھا مجھ کو تو پھر وہ رُلا بھی دیتا تھا

کر کے وہ مجھ سے اکثر وعدے بُھلا بھی دیتا تھا

بے وفا تھا بہت مگر دل کو اچھا لگتا تھا

کبھی کبھار باتیں محبت کی سُنا بھی دیتا تھا

کبھی بے وقت چلا آتا تھا ملنے کو

کبھی قیمتی وقت محبت کے گنوا دیتا تھا

تھام لیتا تھا میرا ہاتھ کبھی یوں ہی خود

کبھی ہاتھ اپنا میرے ہاتھ سے چھڑا بھی لیتا تھا

عجیب دھوپ چھاؤں سا مزاج تھا اُس کا

معتبر بھی رکھتا تھا نظروں سے گرا بھی دیتا تھا


احمد سلیم رفی

No comments:

Post a Comment