گرچہ حریف ہم بھی غمِ دو جہاں کے ہیں
"گل ہیں مگر ستائے ہوئے باغباں کے ہیں "
اب مجھ سے پوچھتی ہے شبِ غم کی تیرگی
کتنے دراز مرحلے اس امتحاں کے ہیں
یوں تو بصد خُلوص چلے آئے بزم میں
ہم سے نہ پوچھیۓ کہ کہاں ہیں کہاں کے ہیں
تسخیرِ کائنات کریں گے اُنہیں ہے زعم
خاصانِ مے کدہ کہ جو پیرِ مغاں کے ہیں
ہم کُشتگانِ راہِ جُنوں ہیں اے گردِ رہ
صحنِ حرم کے ہم ہیں نہ کوئے بتاں کے ہیں
مسجد میں یوں تو دیکھے گئے ہیں یہ صبح و شام
اب چھوڑئیے کہ حضرتِ زاہد کہاں کے ہیں
فرہنگِ عاشقی میں خرد کے ملے ہیں باب
سب مرتبے نصاب میں سود و زیاں کے ہیں
اے دل! تِرا وہ رقصِ جُنوں خیز کیا ہوا
جاتا ہے کس طرف کہ ارادے کہاں کے ہیں
وہ اور ہوں گے جن کو مظفر یہ غم رہا
ہم کو ہے ناز کُشتہ غمِ جاوداں کے ہیں
مظفر احمد
No comments:
Post a Comment