Wednesday, 9 February 2022

زندگی احسان ہی سے ماورا تھی میں نہ تھا

 زندگی احسان ہی سے ماورا تھی میں نہ تھا

طاق پر رکھی ہوئی میری دوا تھی میں نہ تھا

میری ہستی آئینہ تھی یا شکستِ آئینہ

بات اتنی سی نہ سمجھے میرے ساتھی میں نہ تھا

تُو ہی تو سب کچھ سہی نا چیز یہ اب کچھ سہی

وہ تو میری ابتدا بے انتہا تھی میں نہ تھا

دیکھتا رہتا ہوں منظر دیدنی نا دیدنی

ہاں مگر حیران چشمِ ماسوا تھی میں نہ تھا

تُو مجھے دشمن سمجھتا ہے تو دشمن ہی سہی

تُو بھی واقف ہے کوئی نادان ساتھی میں نہ تھا

میرے اندر کا درندہ کھا رہا تھا پیچ و تاب

اور پھر شائستگی زنجیر پا تھی میں نہ تھا

خیر اب تو چیونٹی بھی دوڑتی ہے کاٹنے

جھولتے تھے جب کہ دروازے پہ ہاتھی میں نہ تھا


رؤف خیر

No comments:

Post a Comment