Wednesday, 9 February 2022

تو نہیں ہے تو یہ بے کار بھی ہو سکتی ہے

 تُو نہیں ہے تو یہ بے کار بھی ہو سکتی ہے

زندگی، راہ کی دیوار بھی ہو سکتی ہے

حسن شبنم میں تِرا دیکھ کے میں نے جانا

یہ ہوا آئینہ بردار بھی ہو سکتی ہے

یہ جو ہر وقت جھلکتی ہے تِرے چہرے سے

روشنی طالبِ دیدار بھی ہو سکتی ہے

اس قدر شوخ نہ ہو نیل کے ساحل کی ہوا

جل پری نیند سے بیدار بھی ہو سکتی ہے

دل کے گودام میں بارودِ اَنا مت بھرنا

یہ عمارت کبھی مسمار بھی ہو سکتی ہے

اپنی حساس طبیعت پہ بہت بوجھ نہ ڈال

آگہی، باعثِ آزار بھی ہو سکتی ہے

چاندنی رات میں نکلے نہ اگر سیر کو تُو

چاندنی، ہجر میں بیمار بھی ہو سکتی ہے

جا رہے ہو تو ذرا جُھک کے وہاں چلنا شمار

شہر میں بونوں کی بھرمار بھی ہو سکتی ہے


اختر شمار

No comments:

Post a Comment