حادثہ یہ بھی ہوا ہے اب کے
دل تجھ بھول گیا ہے اب کے
ساتھ چلتے تھے گئے وقتوں میں
اور، رستہ ہی جدا ہے اب کے
میں نے تو آپ کُھرچ ڈالے ہیں
ہر کوئی زخم ہرا ہے اب کے
اپنی جانب ہی نکل آئے ہیں
یہ سفر خوب رہا ہے اب کے
یہ میرے ساتھ ہی اب جائے گا
دل میں جو درد اٹھا ہے اب کے
رخسانہ نور
No comments:
Post a Comment