Monday, 7 March 2022

حادثہ یہ بھی ہوا ہے اب کے

 حادثہ یہ بھی ہوا ہے اب کے

دل تجھ بھول گیا ہے اب کے

ساتھ چلتے تھے گئے وقتوں میں

اور، رستہ ہی جدا ہے اب کے

میں نے تو آپ کُھرچ ڈالے ہیں

ہر کوئی زخم ہرا ہے اب کے

اپنی جانب ہی نکل آئے ہیں

یہ سفر خوب رہا ہے اب کے

یہ میرے ساتھ ہی اب جائے گا

دل میں جو درد اٹھا ہے اب کے 


رخسانہ نور

No comments:

Post a Comment