Tuesday, 8 February 2022

اسے پسند ہیں جو روز و شب تماشے ہیں

 اسے پسند ہیں جو روز و شب تماشے ہیں

تماش بین کی دنیا ہی اب تماشے ہیں

ہماری قوم کو جب سے ملی ہے آزادی

ہمارے ملک میں جاری عجب تماشے ہیں

تجھے طریقتِ عشاق کی خبر ہی نہیں

تِری نگاہ میں وہ چشم و لب تماشے ہیں

تماشا دیکھنے والوں پہ سحر طاری ہے 

تماشا دیکھنے والے بھی اب تماشے ہیں 

وہ شکل جب نہ رہی زندگی کے میلے میں 

فضول میری نگاہوں میں سب تماشے ہیں 

دل و نگاہ پہ اک بوجھ بن چکے یاور

جو ان دنوں سر شہر ادب تماشے ہیں 


یاور عظیم

No comments:

Post a Comment