Tuesday, 8 February 2022

جو زرد پتے درختوں سے جھڑ کے آئے ہیں

 جو زرد پتے درختوں سے جھڑ کے آئے ہیں

چراغ پا ہیں ہواؤں سے لڑ کے آئے ہیں

خود اپنے پاؤں کے کانٹے نہ ہم نکال سکے

بڑھائے ہاتھ تو ناخن اکھڑ کے آئے ہیں

بہت غریب تھے جلوؤں کی نذر کیا کرتے

سو اس کے ماتھے پہ اک چاند جڑ کے آئے ہیں

بڑی مٹھاس ہے لہجے میں درد آنکھوں میں

ضرور آپ کسی سے بچھڑ کے آئے ہیں

ہم ایک حرف دریدہ ہیں چاک ہستی کے

عدم کے بھیگے ورق سے ادھڑ کے آئے ہیں

خیال و خواب کے شہر تباہ میں ہم لوگ

سلیم عشق کی انگلی پکڑ کے آئے ہیں


سردار سلیم

No comments:

Post a Comment