جو زرد پتے درختوں سے جھڑ کے آئے ہیں
چراغ پا ہیں ہواؤں سے لڑ کے آئے ہیں
خود اپنے پاؤں کے کانٹے نہ ہم نکال سکے
بڑھائے ہاتھ تو ناخن اکھڑ کے آئے ہیں
بہت غریب تھے جلوؤں کی نذر کیا کرتے
سو اس کے ماتھے پہ اک چاند جڑ کے آئے ہیں
بڑی مٹھاس ہے لہجے میں درد آنکھوں میں
ضرور آپ کسی سے بچھڑ کے آئے ہیں
ہم ایک حرف دریدہ ہیں چاک ہستی کے
عدم کے بھیگے ورق سے ادھڑ کے آئے ہیں
خیال و خواب کے شہر تباہ میں ہم لوگ
سلیم عشق کی انگلی پکڑ کے آئے ہیں
سردار سلیم
No comments:
Post a Comment