پہلو میں جگہ دیتے اور دل میں اتر جاتے
تم حسنِ نظر کرتے تو ہم بھی نکھر جاتے
ہم کو جو یقیں ہوتا تم ہم کو سمیٹو گے
تاخیر نہ کرتے ہم، اک پَل میں بکھر جاتے
آنکھوں میں مِری تکتے، سوچوں میں ذرا کھوتے
کچھ تم بھی سنور جاتے، کچھ ہم بھی سنور جاتے
سانسوں کی جو سرگم ہے بے تال ہوئی پھرتی
پَل بھر کے لیے جانم! تم دور اگر جاتے
دیوار سے لگ کر ہم روئے ہیں بہت یارو
ہارے ہوئے بندے ہم جاتے تو کدھر جاتے
شعیب مظہر
No comments:
Post a Comment