دوست سارے کبھی غمخوار نہیں ہوتے ناں
ایک جیسے سبھی کردار نہیں ہوتے ناں
چشمِ تر دیکھ وہ کچھ دیر میں آتے ہوں گے
دیر ہو جائے تو بے زار نہیں ہوتے ناں
کوششیں سجنے سنورنے کی ہیں بے کار سبھی
یار سے روٹھ کے سنگھار نہیں ہوتے ناں
دل کے بدلے میں ترا دل بھی نہیں مانگ سکا
عشق میں ایسے بیوپار نہیں ہوتے ناں
آنکھوں آنکھوں میں بھی کر لیتے ہیں کچھ لوگ سوال
سب کے سب صاحبِ گفتار نہیں ہوتے ناں
حسن دیوانہ بنا لیتا ہے دل والوں کو
ہوش مند عشق کا معیار نہیں ہوتے ناں
عشق کی کشتی کنارے نہ لگی ہم سے شعیب
ایسی کشتی کے تو پتوار نہیں ہوتے ناں
شعیب مظہر
No comments:
Post a Comment