کوئی شب اور وہ رشک قمر ہے میہمان اپنا
دکھا لے چار دن کی چاندنی یہ بھی سماں اپنا
پلک کو دے کے جنبش پھر گئی ہم سے جو آنکھ ان کی
ہوا پر اڑ گئی کشتی اٹھا کے بادباں اپنا
نہیں ہوش و خِرد کی برہمی سودائے گیسو میں
اندھیری رات میں یہ لُٹ رہا ہے کارواں اپنا
بنایا دونوں عالم سے جدا اک اور ہی عالم
جو پوچھا بیخودی سے ایک دن نام و نشاں اپنا
سمجھ رکھو وہیں وہ خود نما بھی جلوہ گر ہو گا
صفائے دل دکھاتی ہو گی آئینہ جہاں اپنا
وحید الہ آبادی
وحیدالدین احمد
No comments:
Post a Comment