Friday, 9 June 2023

کوئی شب اور وہ رشک قمر ہے میہمان اپنا

 کوئی شب اور وہ رشک قمر ہے میہمان اپنا

دکھا لے چار دن کی چاندنی یہ بھی سماں اپنا

پلک کو دے کے جنبش پھر گئی ہم سے جو آنکھ ان کی

ہوا پر اڑ گئی کشتی اٹھا کے بادباں اپنا

نہیں ہوش و خِرد کی برہمی سودائے گیسو میں

اندھیری رات میں یہ لُٹ رہا ہے کارواں اپنا

بنایا دونوں عالم سے جدا اک اور ہی عالم

جو پوچھا بیخودی سے ایک دن نام و نشاں اپنا

سمجھ رکھو وہیں وہ خود نما بھی جلوہ گر ہو گا

صفائے دل دکھاتی ہو گی آئینہ جہاں اپنا


وحید الہ آبادی

وحیدالدین احمد

No comments:

Post a Comment