Monday, 2 August 2021

میں اس سے جب ملی تھی

 پختگی


میں اس سے جب ملی تھی

وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ

بڑے سبھاؤ سے

گزار چکا تھا

میں بھی

بھلا دس برس پہلے

میں عمر کے کس حصے میں ہوں گی

شاید عمر کے اس حصے میں

جہاں خواب بُنے جاتے ہیں

اور ہر دھاگے کو اپنے ہاتھوں سے

کسا جاتا ہے

میں بہت خاموش رہ کر

بہت کچھ سہہ کر

جب اس تک پہنچی

تو اس کے ساتھ میں نے کئی زمانوں کو

الُوژن کی صورت خود پر بیتتے دیکھا

میں نے بھری دوپہروں میں اس کے ہمراہ

سنسان گلیوں میں

اتنی سائیکلنگ کی کہ ہم دونوں اور ہمارے ساتھی

تمتماتے سرخ چہروں کے ساتھ

سورج سے لڑتے تھے

باغِ جناح کے کئی ٹریک

ہمارے قدموں کو پہچانتے ہیں اب بھی

کئی کلیاں کھلنے سے پہلے ہم توڑ لاتے تھے

کئی بارش کی بوندیں

چھپاک چھپاک ہمارے پیروں تلے روندی جاتی تھیں

ہم ہنستے تھے تو ہوائیں چلتیں

بولتے تو وقت رک جاتا

وہ اب اپنی عمر کی چار دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ

بڑے ہی سبھاؤ سے گزار چکا ہے

اور میں

عمر کے اس حصے میں ہوں

جہاں

سمجھ پختگی کے دھاگوں سے سِل کر

مکمل اک کتاب بن کر

سامنے آ چکی ہے


عظمیٰ طور

No comments:

Post a Comment