پرانے لوگ تھے کہنہ شرابیں پی رہے تھے
صدی کے انت میں گزرے زمانے جی رہے تھے
ہمارا کام آساں کر رہے تھے چھوٹے بچے
ہم ان کو دیکھ کے اپنا تعلق سی رہے تھے
ہمارے نام پر شہرت ملا کرتی تھی جن کو
ہمارے کام پر تنقید کر کے جی رہے تھے
اس اسٹیشن پہ رکتی تھی کبھی یہ ریل گاڑی
یہاں گزرے زمانے میں کبھی ہم بھی رہے تھے
دلیلوں سے مجھے کوئی بھی پسپا کر نہ پایا
مِرے کردار پر حملے سبھی ذاتی رہے تھے
خاور اسد
No comments:
Post a Comment