Monday, 2 August 2021

پرانے لوگ تھے کہنہ شرابیں پی رہے تھے

 پرانے لوگ تھے کہنہ شرابیں پی رہے تھے

صدی کے انت میں گزرے زمانے جی رہے تھے

ہمارا کام آساں کر رہے تھے چھوٹے بچے

ہم ان کو دیکھ کے اپنا تعلق سی رہے تھے

ہمارے نام پر شہرت ملا کرتی تھی جن کو

ہمارے کام پر تنقید کر کے جی رہے تھے

اس اسٹیشن پہ رکتی تھی کبھی یہ ریل گاڑی

یہاں گزرے زمانے میں کبھی ہم بھی رہے تھے

دلیلوں سے مجھے کوئی بھی پسپا کر نہ پایا

مِرے کردار پر حملے سبھی ذاتی رہے تھے


خاور اسد

No comments:

Post a Comment