Wednesday, 3 March 2021

سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ لگانے کا

 سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ لگانے کا

ہے ان کا موڈ کسی کام میں پھنسانے کا

اسے رقیب نے بھیجا ہے حل شدہ پرچہ

وہ پاس ہو گیا تو ہاتھ پھر نہ آنے کا

کیا ہے عشق تو چپ چاپ کاٹو ہجر کی رات

نہیں ہے فائدہ اب کوئی ٹرٹرانے کا

پکڑ لیا ہمیں ابا نے کش لگاتے ہوئے

"کوئی محل نہ رہا اب قسم کے کھانے کا"

کہاں چھُپی ہے؟ ذرا اپنے بھائیوں کو تو روک

یہ مار ڈالیں گے ہیرو تِرے فسانے کا

وہ جو ہے جیسا بھی ہے عینؔ خوبصورت ہے

مذاق اڑاؤ نہ قدرت کے کارخانے کا


عاطف ملک

عین میم

No comments:

Post a Comment