باغ سے پھول🎕 چرانے کی بڑی کوشش کی
میں نے اس شخص کو پانے کی بڑی کوشش کی
نشہ کرتے تھے محبت کا، یہی عیب تھا بس
اور، یہ عیب چھپانے کی بڑی کوشش کی
وقت بے وقت ہوئے خرچ تِرے ہاتھوں سے
ہم نے یوں خود کو لُٹانے کی بڑی کوشش کی
میں نہ تڑپا، نہ مِری آنکھ سے آنسو نکلے
تُو نے تو مجھ کو رُلانے کی بڑی کوشش کی
گود میں رکھ کے مِرا سر، مجھے بوسے دے کر
آپ نے زہر پلانے کی بڑی کوشش کی
اس کی نیّت میں کوئی کھوٹ تھا ورنہ ہم نے
اک تعلّق کو نِبھانے کی بڑی کوشش کی
فیصل امام رضوی
No comments:
Post a Comment