Thursday, 24 March 2022

تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے

 تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے

ہمارا دل جو تِری یاد کے حصار میں ہے

لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں

وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے

جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی

کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے

میں چاہتا ہوں کہ سب ہار کر تجھے جیتوں

تُو سوچتا ہے تِری جیت میری ہار میں ہے

تِرا ستم بھی دل و جان سے قبول، مگر

بتا تو دے کہ یہ غصے میں ہے یا پیار میں ہے

میں تجھ سے آج بھی کرتا ہوں صرف تیرا سوال

یہ معجزہ تو نہیں، تیرے اختیار میں ہے

دھڑک رہا ہے اگر دل تو صرف تیرے لیے

کھلی ہے آنکھ تو تیرے ہی انتظار میں ہے

سبھی مرادیں سکندر کی جب نہ بر آئیں

تمہارا ذکر بھی عاطف کسی شمار میں ہے


عاطف ملک

عین میم

No comments:

Post a Comment