Thursday, 24 March 2022

روشنی ستارا ہے راستہ ستارا ہے

 روشنی ستارا ہے راستہ ستارا ہے

شب گزار لوگوں کا اۤسرا ستارا ہے

کیوں ہمیں بلاتا ہے پچھلی رات کا تارا

ہم سیاہ بختوں کا دوسرا ستارا ہے

یوں سبھی سے ملتے ہیں، کم کسی پہ کھلتے ہیں

گفتگو سبھی سے ہے مدعا ستارا ہے

شامِ غم سجانے کو دل کی لو بڑھانے کو

ابتداء چراغِ شب،۔ انتہا ستارا ہے

رات بھر اسے ہم نے اۤنکھ میں جگہ دی تھی

صبح یہ کُھلا ہم پر چاند کا ستارا ہے

تو فلک پہ روشن ہے میں زمیں پہ جلتا ہوں

تیری میری قسمت کا ایک سا ستارا ہے

اۤسماں سے لڑتے ہیں اس امید پر ساجد

اجنبی عدالت میں اۤشنا ستارا ہے


ساجد امجد

No comments:

Post a Comment