Thursday, 24 March 2022

تمہارے شہر میں مہنگی شراب ملتی ہے

 تمہارے شہر میں مہنگی شراب ملتی ہے

خدا کا شکر ہے پھر بھی جناب ملتی ہے

جگر کا خوں بھی پیا ہے سو اب شراب سہی

اگرچہ کم سہی خانہ خراب ملتی ہے

شراب ہونٹوں کی پینا نہیں مقدر میں

کہ شاعروں کو قسمت خراب ملتی ہے

یہاں تو ہر کوئی عمدہ شراب پیتا ہے

اور ایک ہم ہیں کہ کچی شراب ملتی ہے

مجھے تو اس کی اداؤں نے مار ڈالا ہے

جہاں کہیں بھی ملے بے نقاب ملتی ہے

نصاب عشق کا سارا کسی کتاب میں ہو

کہیں سے ایسی مدلّل کتاب ملتی ہے؟

میرے نصیب تو دیکھو کہ آج کل مجھ کو

کسی کی آنکھ سے چھلکی شراب ملتی ہے

میں بلا نوش شرابی ہوں اس لیے اشرف

رگوں میں خوں نہیں ملتا شراب ملتی ہے


اشرف علی

No comments:

Post a Comment