تمہارے شہر میں مہنگی شراب ملتی ہے
خدا کا شکر ہے پھر بھی جناب ملتی ہے
جگر کا خوں بھی پیا ہے سو اب شراب سہی
اگرچہ کم سہی خانہ خراب ملتی ہے
شراب ہونٹوں کی پینا نہیں مقدر میں
کہ شاعروں کو قسمت خراب ملتی ہے
یہاں تو ہر کوئی عمدہ شراب پیتا ہے
اور ایک ہم ہیں کہ کچی شراب ملتی ہے
مجھے تو اس کی اداؤں نے مار ڈالا ہے
جہاں کہیں بھی ملے بے نقاب ملتی ہے
نصاب عشق کا سارا کسی کتاب میں ہو
کہیں سے ایسی مدلّل کتاب ملتی ہے؟
میرے نصیب تو دیکھو کہ آج کل مجھ کو
کسی کی آنکھ سے چھلکی شراب ملتی ہے
میں بلا نوش شرابی ہوں اس لیے اشرف
رگوں میں خوں نہیں ملتا شراب ملتی ہے
اشرف علی
No comments:
Post a Comment