Saturday, 12 February 2022

اہل زر کوچۂ افلاس کو کب دیکھتے ہیں

 اہلِ زر کوچۂ افلاس کو کب دیکھتے ہیں

وہ تو بس اپنا جہاں، اپنی طرب دیکھتے ہیں

دیکھتے کب ہیں وہ محرومیِ چشمِ مضطر

یوں تو کہتے ہیں کہ اب دیکھتے، اب دیکھتے ہیں

یوں بدل دیتا ہے جلوہ تیرا سب معمولات

چومنے لگتی ہیں آنکھیں تجھے، لب دیکھتے ہیں

نازنیں! کون تجھے میری نظر سے دیکھے

دیکھنے کو تو تجھےآئینے سب دیکھتے ہیں

دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھنے والا تو نہیں

اور پھر جم کے تِرے عارض و لب دیکھتے ہیں

پھڑپھڑاتا ہے جنوں، دل بھی مچلتا ہے مگر

دیکھتے وقت بھی ہم حدِ ادب دیکھتے ہیں

بعد میں مجھ کو وہ خوش ہو کے عطا کرتے ہیں

پہلے پل کو مِرا حسنِ طلب دیکھتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اک بار اِدھر دیکھیں گے

آنکھ مشتاق ہے، اب دیکھیے، کب دیکھتے ہیں

حادثہ کیسا ہی ابصار شکن ہو احمد

دیکھنے والے مگر اس کا سبب دیکھتے ہیں


احمد نواز

No comments:

Post a Comment