Saturday, 12 February 2022

غزل پھول بن کر مہکتی ہے کبھی نظم گاتی ہے

 بے خیالی میں تخلیق


خیالات و احساس 

جو بے ساختہ لکھ دئیے ہیں

نہ جانے وہ کب سے 

دل و جاں کے اندر چھپے تھے،

کسی راز جیسے

قلمبند ہونے کو بے چین تھے

کئی درد، الجھے سوالات

جو صفحے پہ سجنے کو بے تاب تھے

وہ سب

قلم سے مِرے موتیوں کی طرح

اب برسنے لگے ہیں

سبھی رقص کرنے لگے ہیں

مِری چشمِ پُر نم

جو سیلاب روکے ہوئے ہے

ستارے چمکتے ہیں میری پلک پر

انہیں میں رقم کر رہی ہوں

جو طوفان ہے موجزن میرے اندر

وہ ارمان، وہ خواب

کئی لاشعوری مضامین بن کر

ورق در ورق جگمگانے لگے ہیں

سبھی رقص کرنے لگے ہیں

اور اب

اسی جذب و احساس کے زیرِ سایہ

غزل پھول بن کر مہکتی ہے

کبھی نظم گاتی ہے وہ گیت

کہ جو بے خیالی میں تخلیق ہو کر

بناتی ہے رنگین پیکر

یہ بزمِ سخن کو سجانے پہ مائل

خیالات سب رقص کرنے لگے ہیں

قلم سے مِرے موتیوں کی طرح

اب برسنے لگے ہیں

سبھی رقص کرنے لگے ہیں


سبیلہ انعام صدیقی

No comments:

Post a Comment