ہجر کو یار کا اوتار بنا رکھا ہے
اُس کی ہر یاد کو تہوار بنا رکھا ہے
میری نظروں میں نظر آتا ہے وہ آنکھوں کو
یار کا آئینہ بردار بنا رکھا ہے
اس کی یادوں کے حسیں پھول کھلا کر دل میں
دامنِ دشت کو گُلزار بنا رکھا ہے
مُجھ میں اک خوفزدہ شخص ہے ایسا جس نے
میرے ہر کام کو دشوار بنا رکھا ہے
اُس کو بتلاؤ قناعت کی دوائی کھائے
جس کو بُہتات نے بیمار بنا رکھا ہے
جب سے کم مائیگیِ لفظ کھُلی ہے مجھ پر
خامشی کو رہِ گفتار بنا رکھا ہے
بے نیازی بھی ادا اس کی ہے جس نے اپنا
اک زمانے کو طلبگار بنا رکھا ہے
اپنے پاؤں سے کُچلتے ہیں وہی سر اِن کے
جن کو جمہور نے سرکار بنا رکھا ہے
دیکھنے والے کو فنکار بنا دے، احمد
تُو نے ایسا کوئی شہکار بنا رکھا ہے؟
احمد نواز
No comments:
Post a Comment