Sunday, 20 March 2022

دامن چھڑا کے آیا ہے دل تیری یاد کا

 دامن چھڑا کے آیا ہے، دل تیری یاد کا

پہلا سمجھ یہ ووٹ، عدم اعتماد کا

میں ہوں کہ جس نے بخشی ہے توقیر تجھ کو عشق

مشکل لگے گا وقت تجھے میرے بعد کا

تُو شَر میں آ گیا ہے کسی بد خیال کے

تُو آدمی نہیں ہے بُرے اعتقاد کا

کچھ ایسی سرد گفتگو تھی یوں لگا ہے آج

درجہ گرا ہو جیسے کہیں انجِماد کا

پریوں کی خوبروئی بھی مرجھا گئی تمام

قبضہ ہے کوہ قاف پہ اک دیو زاد کا

شاخِ شجر تو پھر نکل آئے گی، پر مجھے

دکھ ہے پرندگانِ شجر سے عناد کا

وہ شخص جس نے روز ہی تحقیر کی مِری

اس کے لبوں پہ ذکر حقوق العباد کا؟

مجھ کو سخن کی تیغ نہیں بے سبب ملی

مجھ کو ملا ہے اذن، قلم سے جہاد کا


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment