دلربا ہے، مگر جُدا بھی نہیں
یہ تِرا حُسن کچھ نیا بھی نہیں
مجھ کو اس کی سمجھ نہیں آتی
اوِر وہ انسان ہے، خدا بھی نہیں
حد تو یہ ہے کہ بے وفائی پر
اس کو خفّت نہیں، ذرا بھی نہیں
جانے کس بُت کے پاؤں پڑتا ہوں
جو مِرا ہاتھ تھامتا بھی نہیں
میں کہ اس لمس کے سرور میں ہوں
اب تلک جو مجھے ملا بھی نہیں
مجھ کو کہتا ہے زندگی، لیکن
خوشدلی سے گزارتا بھی نہیں
ایک تو وہ نہیں بُرا اتنا
اوِر مجھے اس سے مسئلہ بھی نہیں
میرے اندر یہ کون بستا ہے
میں جسے خاص جانتا بھی نہیں
عمر بھر دشتِ آگہی چھانا
اوِر بجز پیاس کچھ صلہ بھی نہیں
کس لیے زحمتِ دعا سائیں
میں نے تو آپ سے کہا بھی نہیں
مجھ کو لاحق ہے دردِ تنہائی
جُز تِرے جس کی کچھ دوا بھی نہیں
احمد نواز
No comments:
Post a Comment