Tuesday, 5 April 2022

پہلے دنیا سے انحراف کیا

 پہلے دنیا سے انحراف کیا

پھر تِری ذات کا طواف کیا

جا مِرے یار! مُسکراتا رہ

میں نے آنسُو بہا معاف کیا

میں تِرے حق میں ٹوکتا ہوں تجھے

کس نے تُجھ کو مِرے خلاف کیا

جس نے ایجاد کی تھیں قندیلیں

اس نے ظلمت کا اعتراف کیا

آپ کو خود سے مسئلہ ہے اگر

کس لیے میرا مُوڈ آف کیا

میں نے انکار پارسائی کا

کر دیا، اور صاف صاف کیا

جب بھی تجھ سے معانقہ چاہا

من کے مندر میں اعتکاف کیا

دھیان دیتا تو بات پا لیتا

اس نے فی الفور اختلاف کیا

اشک آلود تھی کتابِ حیات

میں نے مُسکان کو غلاف کیا


احمد نواز

No comments:

Post a Comment