Tuesday, 5 April 2022

کاش بادل کی طرح پیار کا سایا ہوتا

 کاش بادل کی طرح پیار کا سایا ہوتا

پھر میں دن رات ترے شہر پہ چھایا ہوتا

راہ میں آگ کے دریا سے گزرنا تھا اگر

تُو نے خوابوں کا جزیرہ نہ دکھایا ہوتا

مجھ سی تخلیق کا الزام نہ آتا تجھ پر

میں اگر نقشِ غلط تھا، نہ بنایا ہوتا

خواب ٹوٹے تھے اگر تیرے بھی میری ہی طرح

بوجھ کچھ تیری بھی پلکوں نے اٹھایا ہوتا

لمس ہاتھوں کا بھی کافی تھا پگھلنے کے لیے

موم کے بت کو زمیں پر نہ گرایا ہوتا


مرتضیٰ برلاس

No comments:

Post a Comment