Friday, 9 July 2021

یعنی وہ میں تھا جسے مجھ سے پریشانی تھی

 یعنی وہ میں تھا جسے مجھ سے پریشانی تھی

ورنہ، اس دشت میں ہر گام تو ویرانی تھی

خواب کے خوف سے پلکوں کو جھپکتا ہی رہا

ورنہ، کل رات مجھے نیند تو آ جانی تھی

یہ تو لوگوں کو دکھانے کے لیے مان لیا

ورنہ میں نے تِری ہر بات کہاں مانی تھی

اب جو زخموں کو تخیل کی دوا دیتے ہو

تم مسیحا تھے تو وہ لاش اٹھا لانی تھی

اس نے انگلی ہی نہیں ہاتھ جلا ڈالا ہے

یہ انگوٹھی تو مِرے یار سلیمانی تھی


محسن احمد

No comments:

Post a Comment