Saturday, 8 August 2020

تو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا

تُو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا 
تُو جو نکلے گا کناروں سے تو مر جائے گا
یہ ضروری تو نہیں ہجر کے لمحات گنوں
"وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا"
یہ تِرے بس کا نہیں روگ، میاں چھوڑ اسے
تُو بدن چاٹ کے الفت سے مُکر جائے گا
میرے رونے سے سمندر میں اضافہ نہ سہی
کم سے کم آنکھ کا دریا تو اتر جائے گا
اے مِرے عکسِ جنوں دیکھ مرے چہرے کو
تُو بھی خاموش رہے گا تو بکھر جائے گا
قیس کو قیس نما، اور مجھے قیس کہا
میں نہ کہتا تھا مجھے دیکھ کے ڈر جائے گا

محسن احمد

No comments:

Post a Comment