قدیم لمحے
قدیم لمحے اداس آنکھوں میں تیرتے ہیں
کہ جیسے اجڑے مکاں سے لپٹی بیلیں
نئے شگوفوں کی خواہشیں ہوں
اداس آنکھیں
خلاؤں میں کیا تلاشتی ہیں
اداس آنکھوں کے اس افق پر
تمہارا سورج ابھر رہا ہے
سیاہ زلفیں بھٹک رہی ہیں
رسیلے ہونٹوں، چمکتے چہرے کو چومتی ہیں
ہزار موسم گزر گئے ہیں
ہزار موسم گزر رہے ہیں
ہزار موسم قدیم لمحوں کی راکھ لے کر
نہ جانے کس سے کہاں ملیں گے؟
آمنہ بہار
No comments:
Post a Comment