Tuesday, 5 October 2021

قدیم لمحے اداس آنکھوں میں تیرتے ہیں

 قدیم لمحے


قدیم لمحے اداس آنکھوں میں تیرتے ہیں

کہ جیسے اجڑے مکاں سے لپٹی بیلیں

نئے شگوفوں کی خواہشیں ہوں

اداس آنکھیں

خلاؤں میں کیا تلاشتی ہیں

اداس آنکھوں کے اس افق پر

تمہارا سورج ابھر رہا ہے

سیاہ زلفیں بھٹک رہی ہیں

رسیلے ہونٹوں، چمکتے چہرے کو چومتی ہیں

ہزار موسم گزر گئے ہیں

ہزار موسم گزر رہے ہیں

ہزار موسم قدیم لمحوں کی راکھ لے کر

نہ جانے کس سے کہاں ملیں گے؟


آمنہ بہار

No comments:

Post a Comment