کچھ تو کہو نا
شاردہ دیوی یاد ہے تجھ کو
کشن گنگا کی لہر لہر نے تجھ کو نیلم پہنائے تھے
جنم جنم کے ساتھی دریا کیا کیا یاد دلاؤں تجھ کو
راگ ملہار کھماج درباری کچھ بھی تجھ کو یاد نہیں ہے
میری چیڑ اور دیوداروں سے میرا نام مٹانے والے
اپنے نام سے ناواقف ہیں
سبز چناروں کے پتوں پر
خون کی خیرا کُن سرخی ہے
میرے بچوں کے چہروں پر
کاشر دیس کے سیب کی سرخی
لیکن کتنی گرد جمی ہے ریشم جیسے بالوں پر
ان بچوں نے پیلٹ گن کے گہرے گہرے وار سہے ہیں
کس نے کس کو اپنا سمجھا کس نے کس پر وار کیا ہے
پرانا قصہ پرانا قضیہ چھوڑو استحصال کی باتیں
ساری کہنہ سال کی باتیں
میرے گھر میں میرے گھر کا سودا کرنے والے
صدیوں پرانا بوڑھا سورج تجھ کو یاد دلائے گا
میری ریاست عہدِ سیاست سے پہلے تھی
احراموں جیسی اک مضبوط عمارت تھی
میرے دیس کی ثروت مندی
کہاں کہاں سے نفی کرو گے
منظرنامہ اس منظر کا تم بھی پڑھ لو
چارہ گرو کوئی چارہ گری ہے
چپ کیوں ہو اب کچھ تو کہو نا
آمنہ بہار
No comments:
Post a Comment