عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہدائے کربلا
کی نہ کچھ عقدہ کشائی ناخنِ تدبیر نے
کربلا پہنچا دیا ہے عشق کی تاثیر نے
کہتے تھے شہؑ لو ہُوا بانو علی اصغرؑ شہید
پیاس بچے کی بُجھائی حُرملہ کے تیر نے
کہتی تھی بانو ہوا وارث بھی میرا ہائے قتل
خوب لوٹا مجھ کو جنگل میں مِری تقدیر نے
شمر نے چھینے سکینہؑ کے گُہر وا حسرتا
کان زخمی کر دئیے بچی کے اس بے پیر نے
سر کُھلے ماں بہنیں اونٹوں پر تھیں اور خود ننگے سر
سختیاں کیا کیا اٹھائیں عابدِ دلگیر نے
سر سے چادر چھن گئی آلِ عبا کی ہائے ہائے
منہ کو بالوں سے چھپایا صاحبِ تطہیر نے
سُوکھ جاتا گلشنِ اسلام کب کا اے رباب
خوں سے گر سینچا نہ ہوتا حضرتِ شبیرؑ نے
رباب اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment