عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اللہ اللہ شہِﷺ ارض و سما آج کی رات
بزمِ قوسَین میں ہیں، جلوہ نُما آج کی رات
قابلِ دید ہے رتبہ، یہ تِراﷺ آج کی رات
تاجِ لولاک لما سر پہ سجا آج کی رات
حسنِ مُطلق نے بصد شوق کہا آج کی رات
چاہے جو مانگ لے، اے شاہِ دناؐ آج کی رات
ہے یہ معراجِ شہِؐ ہر دو سَرا آج کی رات
نور افشاں ہے دو عالم کی فضا آج کی رات
ذوقِ دیدار بڑھا حد سے سوا آج کی رات
پاس محبوب کو بلوا ہی لیا آج کی رات
زینتِ عرشِ عُلیٰ اور بڑھی اور بڑھی
اے زہے آمدِ محبوبِؐ خدا آج کی رات
رُتبۂ سرورِﷺ ذی جاہ خدا ہی جانے
انبیاء نے بیک آواز کہا؛ آج کی رات
میرے محبوبؐ جو باندھا تھا، ازل میں تم سے
پورا وہ عہدِ وفا، ہم نے کیا آج کی رات
لبِ جبرئیلؑ سے پیہم یہ صدا آتی ہے
ساری راتوں سے ہے رتبہ میں سوا آج کی رات
وجہِ تخلیقِ زمن شاہِ دناﷺ آتا ہے
حق کی رحمت کا ہر اک باب کُھلا آج کی رات
مجھ کو تسلیم کیا، اس کے ثنا خوانوں میں
اس کی رحمت نے بڑا ساتھ دیا آج کی رات
بزمِ کونینﷺ میں ممتاز ہوا ہے ضامن
نعت گوئی کا ملا اس کو صِلہ آج کی رات
ضامن حسنی
No comments:
Post a Comment