Tuesday, 9 August 2022

ہم سوئے حشر چلیں گے شہ ابرار کے ساتھ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہم سُوئے حشر چلیں گے شہِ ابرارؐ کے ساتھ

قافلہ ہو گا رواں قافلہ سالارﷺ کے ساتھ

رہ گئے منزلِ سِدرہ پہ پہنچ کر جبریلؑ

چل نہیں سکتا فرشتہ تِریؐ رفتار کے ساتھ

یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے، ورنہ

کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ

اے خدا! دی ہے اگر نعتِ نبیﷺ کی توفیق

حسنِ کردار بھی دے لذتِ گفتار کے ساتھ

پُل سے مجھ سا بھی گنہگار گزر جائے گا

ہو گی سرکارؐ کی رحمت جو گنہگار کے ساتھ

رات دن بھیج سلام انﷺ پہ ملائک کی طرح

پڑھ درود انﷺ پہ غلامانِ وفادار کے ساتھ

دیکھ اے معترض نعتِ رسولﷺ عربی

قُرب حساں کو ملا تھا انہی اشعار کے ساتھ

سب عطائیں ہیں خدا کی میرے مولا کے طفیل

ورنہ یہ لطف و کرم مجھ سے گنہگار کے ساتھ

ہم بھی مظہر! سے سنیں گے کوئی نعتِ رنگیں

گر ملاقات ہوئی شاعرِ دربار کے ساتھ


حافظ مظہرالدین مظہر

No comments:

Post a Comment